ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / تعلیم حاصل کرنا بنیادی حقوق میں شامل،الہ آباد ہائی کورٹ نے عمر قید کی سزا کاٹ رہے مسلم نوجوانوں کو اعلی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی

تعلیم حاصل کرنا بنیادی حقوق میں شامل،الہ آباد ہائی کورٹ نے عمر قید کی سزا کاٹ رہے مسلم نوجوانوں کو اعلی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی

Wed, 02 May 2018 16:38:53    S.O. News Service

جمعیۃ علماء کی بروقت کارروائی سے ملزمین کا سال ضائع ہونے سے بچ گیا، گلزار اعظمی
ممبئی،2؍ مئی (ایس او نیوز؍پریس ریلیز)  دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار عمر قید کی سزا کاٹ رہے دو مسلم نوجوانوں کو آج الہ آباد ہائی کورٹ نے اعلی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دے دی نیز جیل انتظامیہ کو حکم دیا کہ وہ داخلہ کے لیئے متعین کردہ وقت سے قبل ان کے داخلوں کو یقینی بنائے ۔

جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے توسط سے الہ آباد ہائی کورٹ میں ملزمین محمد فرحان خان (لکھنؤ) اور محمد رضوان صدیقی (امروہہ) جو اعلی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن جیل انتظامیہ نے منع کردیا تھا کے لیئے عرضداشت داخل کی گئی تھی جس پر آج سماعت عمل میں آئی جس کے دوران جسٹس وویک چودھری نے ملزمین کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ملزمین کو حق ہے کہ وہ جیل میں رہتے ہوئے اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں ۔

جمعیۃ علماء کے وکلاء سجیت سنگھ، فرقان احمد اور عارف علی نے گذشتہ ہفتہ عرضداشت داخل کی تھی اور دوان سماعت عدالت کو بتایا کہ ملزمین جیل میں رہتے ہوئے BAکی تعلیم مکمل کرچکے ہیں اور انہوں نے اعلی نمبرات سے کامیابی بھی حاصل کی تھی لیکن جیل انتظامیہ ملزمین کو MAمیں داخل نہیں لینے دے رہی ہے۔

وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ جیل میں رہتے ہوئے تعلیم حاصل کرنا ہر قیدی کا حق ہے لہذا عدالت جیل انتظامیہ کو حکم دے کہ وہ ملزمین کو MA میں داخلہ لینے کی اجازت دے۔

حالانکہ سیکوریٹی کا بہانہ بناکر سرکاری وکیل نے عدالت کا گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن جسٹس وویک نے ملزمین کو انداگاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی میں داخلہ لینے کی اجازت دے دی۔

ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم کے سربراہ گلزاراعظمی نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ پر مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں امید تھی عدالت جیل انتظامیہ کی زیادتیوں پر سخت ایکشن لے گی اور ملزمین کو راحت حاصل ہوگی۔

گلزار اعظمی نے مزید کہاکہ حالانکہ ملزمین کو عمر قید کی سزا ء ہوئی ہے لیکن سزا کے خلاف داخل اپیل سماعت کے لیئے منظور ہوچکی ہے اور جلد ہی اس پر حتمی بحث عمل میںآئے گی کیونکہ ملزمین ۲۰۰۶ء سے جیل میں قید و بند کی سعوبتیں برداشت کررہے ہیں نیز انہیں امید ہیکہ ہائی کورٹ لکھنوء سیشن عدالت کے فیصلہ پر نظر ثانی کرتے ہو ئے ملزمین کو انصاف دے گی کیونکہ ملزمین کو شک کی بنیاد پر دہشت گردانہ معاملات میں ملوث ہونے کی سزا دی گئی تھی۔


Share: